106بنگلورو۔20نومبر(ایس او نیوز)دیہی ترقیات وپنچایت راج وزیر ایچ کے ۔پاٹل نے کہا کہ محکمہ میں سال 2009سے2014تک106فرصی اکاؤنٹس قائم کرکے تقریباً10ہزار کروڑ کا لین دین کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں ملوث افسران کے خلاف سیول اور فوجداری مقدمہ دائر کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ میں فرضی ناموں سے بینک اکاؤنٹس قائم کئے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے اس گھوٹالے کی جانچ محکمہ کے انڈر سکریٹری سدیش پوتودا کوٹی کی زیر نگرانی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ مذکورہ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر آڈیٹ کروانے کیلئے محکمہ اکاؤنٹس کے اڈیشنل ڈائرکٹر بی این شیوددپا کی زیر نگرانی ایک اور کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ اس کمیٹی نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی ہے ۔ جس کے تحت محکمہ میں تقریباً 10ہزار کروڑ کا غیر قانونی طریقے سے روپیوں کا لین دین کرنے کاپتہ چلا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعلق سے کئی ثبوت بھی اکٹھا کئے گئے ہیں۔وزیر موصوف نے بتایا کہ سریش کی رپورٹ میں جن باتوں کا خلاصہ ہوا ہے اس کو شیو ردرپا کی کمیٹی نے درست قرار دیاہے ۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق 2009سے 2014کے دوران محکمہ میں سرکاری رقم کا غلط استعمال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی وقت کرناٹک اسٹیٹ رورل واٹر سپلے اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈائرکٹر کے طور پر ڈاکٹر پی بودے گوڈا تھے ۔ انہوں نے اس میعاد میں محکمہ دیہی ترقیات کے ڈپٹی سکریٹری رام کرشنا ،سنڈیکیٹ بینک اور ٹی ایس گری اینڈ اسو سیٹ آڈیٹ کمپنی کے خلاف سیول اور فوجداری مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی طرح شیوردرپا کمیٹی کی سفارش کے تحت تمام اکاؤنٹس اور رقم کے لین دین کی جانچ کیلئے 2ماہ میں رپورٹ دینے کیلئے کرناٹک پبلک آڈیٹ انسٹی ٹیوٹ کو ہدایت دی گئی ہے ۔ اس کیلئے انہوں نے محکمہ دیہی ترقیات کے انڈر سکریٹری رنگناگوڈا کو نوڈل افسر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جملہ 10.179کروڑ کے غیر قانونی لین دین میں 495کروڑ کی رقم سرکاری خزانہ میں جمع کرائی گئی ہے ۔ 273کروڑ روپئے اہم کھاتے سے نکال کر فرضی کھاتے میں جمع کرائی گئی ہے۔ 386کروڑ روپئے کا کوئی حساب نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو قرضہ جات کے طور پر 263کروڑ کا سود ادا کرنا پڑا ہے ۔ ان تمام فرضی اکاؤنٹس کو سنڈیکیٹ بینک ، دینا بینک، آندھرا بینک سمیت دیگر بینکوں میں جمع کرائی گئی ہے۔وزیر موصوف نے بتایا کہ سال2009ء 2014-تک اس محکمہ میں جتنے بھی افسران نے کام کئے ہیں ان سے بھی پوچھ تاچھ کرنا ناگزیر ہوچکا ہے ۔ ان میں سابق وزیر شوبھا کرند لاجے ، سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شٹر ، سابق وزیر کے ایس ایشورپا بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سابق چیف سکریٹری کو شک مکھرجی سے بھی پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے ۔ ان کے خلاف بھی فوجداری مقدمہ دائر ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ وہ 2009سے 2014تک حکومت کے اڈیشنل چیف سکریٹری اور ڈیولپمنٹ کمشنر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ اس گھوٹالے پر کوشک مکھرجی سے سوال کرنے پر انہوں نے کوئی بھی جواب دینے سے انکار کیا ہے ۔
آر ڈی پی آر۔ وزارت توانائی اس کیلئے ذمہ دار: کمار سوامی
دیہی ترقیات وپنچایت راج(آر ڈی پی آر) محکمہ میں کروڑوں کی بدعنوانی ہوئی ہے ۔ اس میں بڑے بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے جبکہ پولیس چھوٹے اور کمزور لوگوں سے اس سلسلہ میں پوچھ گچھ کررہی ہے ۔ حالانکہ تحقیقات میں ان لوگوں کوشامل کیا جائے، جنہوں نے اس میں اہم رول ادا کئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران جے ڈی ایس لیڈر کمار سوامی نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں کی اس بدعنوانی میں بڑی بڑی مچھلیاں ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں تک پولیس نہیں پہنچ پارہی ہے ۔ جبکہ کمزور لوگوں سے الجھانے والے سوالات کئے جارہے ہیں۔ وزیر برائے دیہی ترقیات وپنچایت راج ایچ کے پاٹل پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے تحقیقات نہیں ہوپارہی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک سال قبل انہوں نے آوازاٹھائی تھی اور حکومت کو اس سے آگاہ کیا گیا تھا مگر سدارامیا نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ کمار سوامی نے کہا کہ اگر بروقت اس معاملہ پر کارروائی ہوتی تو کروڑوں کی لوٹ نہ ہوتی ۔ بی جے پی کے دور اقتدار میں بھی اس شعبہ میں بدعنوانی ہوئی تھی مگر کارروائی نہیں ہونے کی وجہ سے بدعنوان افسروں کو حوصلہ ملا اور اس میں مزید اضافہ ہوا ۔ اس کیلئے وزارت برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج سمیت وزارت توانائی بھی شامل ہیں۔